افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کے لیے ہلاکت خیز مہینہ
12 اگست 2011امریکی فوج کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ جنوبی افغانستان میں سڑک کےکنارے نصب ایک بم کے پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا۔ تاہم نیٹو اور امریکی حکام نے واقعے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ پینٹاگون نے صرف اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مرنے والے تمام فوجی امریکی تھے۔
چھ اگست کو طالبان شدت پسندوں نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا، جس میں 30 امریکی فوجی، افغان اسپیشل فورسز کے سات ارکان اور ایک مترجم ہلاک ہو گیا تھا۔
جنوبی افغانستان میں پانچ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے ساتھ ہی افغانستان میں اگست کے مہینے کے دوران ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد50 ہو گئی ہے۔2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں حالات اس وقت انتہائی نازک ہیں۔ رواں سال اب تک شہری ہلاکتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور ابھی تک کسی بھی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی فوجی ہلاک نہیں ہوئے ہیں۔
اس دوران پینٹاگون نے ہیلی کاپٹر حادثے میں مرنے والے فوجیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فہرست کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں نیوی کے سیل یونٹ کے 17اہلکارشامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیل یونٹ کے ساتھ کام کرنے والے خصوصی دستے کے پانچ جبکہ فضائیہ سے تعلق رکھنے والے تین خصوصی دستوں کو اہلکار بھی ہیلی کاپٹر پر سوار تھے۔ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی امن دستے آئی سیف کے حکام نے بدھ کے روز کہا تھا کہ چھ روز قبل امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرانے میں ملوث طالبان کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ تاہم طالبان ذرائع نے اس خبر کی تردید کی ہے۔
افغانستان میں اس وقت بد امنی عروج پر ہے اور اسی دوران ملک کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کرتے ہوئے پانچ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اسی طرح جنوبی افغانستان میں ایک بم حملے میں ایک غیر ملکی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔ تاہم نیٹو حکام نے اس فوجی کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔ اس سال اب تک 390 سے زائد غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ گزشتہ برس ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 711 تھی۔ اسی طرح رواں سال افغان فورسز کو پہنچنے والا جانی نقصان گزشتہ برس کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ : عدنان اسحاق
ادارت : ندیم گِل