فلسطینی صدر کی طرف سے اقوام متحدہ کے نام اپیل کی تیاری
25 اگست 2014محمود عباس حکومت میں شامل ایک اہلکار کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے نام اس اپیل میں کہا جائے گا کہ 1967ء کی مشرق وُسطیٰ جنگ کے دوران اسرائیل کی طرف سے قبضہ کیے جانے والے علاقوں کو آزاد کرانے کے علاوہ ایک مکمل طور پر خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔
فسلطینی صدر کے اس قریبی سرکاری اہلکار کے مطابق محمود عباس اس حوالے سے اپنا مجوزہ منصوبہ غزہ میں جاری جنگ کے بعد عالمی برادری کے سامنے پیش کریں گے۔ تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ فلسطینی صدر اپنا یہ مجوزہ منصوبے پہلے فلسطینی رہنماؤں کی منگل 26 اگست کو ہونے والی میٹنگ میں سامنے لائیں گے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس اہلکار نے یہ بات اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس خبر رساں ادارے کو بتائی کیونکہ ابھی تک یہ منصوبہ باقاعدہ طور پر پیش نہیں ہوا۔
اختتام ہفتہ پر ایک مصری ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو کے دوران محمود عباس نے بھی کہا تھا کہ وہ بہت جلد ایک منصوبہ عرب، امریکی اور یورپی رہنماؤں کے سامنے پیش کریں گے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا، ’’یہ ایک غیر روایتی حل ہے لیکن میں اسرائیل کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کروں گا۔ یہ ایک سیاسی اور سفارتی حل ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے اس منصوبے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
فلسطینی مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ پٹی کے علاقے پر مشتمل اپنی ایک خود مختار ریاست کے متمنی ہیں۔ اسرائیل نے ان تینوں علاقوں پر 1967 کی مڈل ایسٹ جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم غزہ پر سے اس نے 2005ء میں اپنا قبضہ ختم کر دیا تھا۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری، مزید 16 فلسطینی ہلاک
اسرائیل کی طرف سے اتوار 24 اگست کو غزہ پٹی میں کیے جانے والے فضائی حملوں میں مزید 16 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ 48 دنوں سے جاری جنگ کے نتیجے میں اب تک 2100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان میں سے زیادہ تر تعداد سویلین افراد کی ہے۔ قریب 500 فلسطینی بچے بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد 68 ہے۔ ان میں سے 64 فوجی ہیں جو غزہ پٹی میں اسرائیلی زمینی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔
اتوار کے روز کیے جانے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک کے نتیجے میں حماس کے اقتصادی امور کے ایک اہلکار محمد الغُل بھی ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وہ ایک کار میں سفر کر رہے تھے جسے فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ غزہ میں طبی حکام کی طرف سے محمد الغُل کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔