کراچی میں مزید تین پولیو ورکر دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے
21 جنوری 2014پولیس کے مطابق موٹرسائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے کراچی کے علاقے قیوم آباد میں دو مختلف مقامات پر پولیو ٹیموں کو نشانہ بنایا۔ پولیو ورکرز پر یہ تازہ حملہ عالمی ادارہ صحت کی اس رپورٹ کے چند ہی دنوں بعد کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور ’دنیا میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا گڑھ‘ ہے۔
پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا مرض ابھی تک موجود ہے۔ دیگر دو ممالک افغانستان اور نائجیریا ہیں۔ پاکستان سے اس مرض کے خاتمے کی راہ میں شدت پسندوں کی طرف سے پولیو مہم کی مخالفت اور پھر پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملوں جیسے مسائل ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
کراچی میں پولیو ورکرز کو نشانہ بنانے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو مہم کو معطل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ان حملوں میں دو دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’حملہ آوروں نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے اور اپنی موٹر سائیکلوں پر پولیو ٹیموں کا انتظار کر رہے تھے۔‘‘
کراچی کے جناح ہسپتال کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ہسپتال میں تین لاشوں اور دو زخمیوں کو لایا گیا۔ ان حملوں کے بعد پولیس کی بھاری نفری متاثرہ علاقے میں تعینات کر دی گئی۔
عسکریت پسند گروپ پولیو ویکسینیشن مہم کو خفیہ طور پر ان کی جاسوسی کی کوشش گردانتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان گروپوں کے مطابق پولیو کے قطرے دراصل مسلمانوں کو بانجھ بنانے کی عالمی کوششوں کا حصہ ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس پولیو کے 91 کیسز سامنے آئے جبکہ اس سے ایک سال قبل یعنی 2012ء میں 58 کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے۔ دوسری طرف پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت نے گزشتہ ہفتے ہی پولیو کا آخری کیس سامنے آنے کے تین برس مکمل ہونے کی خوشی منائی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اس بات کی تصدیق کے بعد بھارت کو پولیو سے پاک ملک قرار دیا جا سکتا ہے۔