یوکرین: جنگ میں اب تک ساٹھ ارب ڈالر کے مالی نقصان کا اندازہ
22 اپریل 2022ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ میلپاس نے جمعرات کے روز کہا کہ روس کے فوجی حملے کی وجہ سے یوکرین کی سینکڑوں عمارتیں اور انفرااسٹرکچر تباہ ہوگئے ہیں اور ایک عام اندازے کے مطابق اس سے تقریباً 60 ارب ڈالر کانقصان ہوچکا ہے۔ اور اگر جنگ جار ی رہی تو مالی نقصان میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔
میلپاس نے یوکرین کو مالی امداد کی ضرورت کے حوالے سے ورلڈ بینک کی طرف سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نقصانات کے سلسلے میں یہ ابتدائی اندازے ہیں اور اس میں جنگ کی وجہ سے اقتصادی لاگت میں ہونے والا مسلسل اضافہ شامل نہیں ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر کا کہنا تھا،"بلاشبہ جنگ اب بھی جاری ہے اس لیے نقصانات میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔"
اقتصادی بحالی کے لیے ماہانہ 7 ارب ڈالر کی ضرورت
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کے ساتھ جنگ ختم ہوجانے کے بعد ملک کی تعمیر نو کے لیے کھربوں ڈالر کی ضرورت ہوگی۔
وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک پر روس کے حملے کی وجہ سے جو اقتصادی نقصان ہوا ہے اس کی بحالی کے لیے ماہانہ کم از کم 7 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔اس کے علاوہ یوکرین کو بعد میں بھی اپنی تعمیر نو کے لیے کھربوں ڈالر کی ضرورت پڑے گی۔
زیلنسکی نے ورلڈ بینک کے کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ روس کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فوراً نکال باہر کریں۔ انہوں نے تمام ملکوں سے ماسکو کے ساتھ اپنے تعلقات فوراً ختم کرلینے کی بھی اپیل کی۔
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روس کی طرف سے بحر اسود کی بندرگاہوں کے گھراو کرلینے کی وجہ سے یوکرینی برآمدات رک گئی ہیں جس سے خوراک کے تحفظ کا عالمی پروگرام بھی متاثر ہورہا ہے۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ روسی فوج "یوکرین میں زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے والی تمام چیزوں کو تباہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان میں ریلوے لائن، اسٹیشن، اناج کے گودام، تیل صاف کرنے کے کارخانے وغیرہ شامل ہیں۔"
یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی فورسز یوکرین میں انفرااسٹرکچر، اسکولوں، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور ان گنت مکانات کواب تک تباہ کرچکی ہے۔
'براہ راست امداد دیں قرض نہیں'
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے روسی حملوں کے باوجود ملک کے میکرواکنامک کو نسبتاً مستحکم رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے کییف حکومت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ یوکرینی حکومت اور اہم ریاستی اداروں کے کام کاج کو یقینی بنانے کے لیے اگلے دو سے تین ماہ کے دوران ماہانہ تقریباً 5 ارب ڈالر کی مدد کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ براہ راست مدد ہونی چاہئے نہ کہ قرض کی شکل میں۔ کیونکہ قرض کا بوجھ ڈالنا "سمجھداری" نہیں ہوگی اور بعد میں اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
ج ا/ ص ز (روئٹرز، ڈی پی اے)