بھارتی فلمی سپر سٹار رجنی کانت سیاستدان بن گئے
31 دسمبر 2017تامل ناڈو کی ریاست دسمبر سن 2016 میں اُس وقت کی وزیر اعلیٰ جیا للیتا کے انتقال کے بعد سے سیاسی کشا کش کا شکار ہے۔ اڑسٹھ برس کی عمر میں انتقال کر جانے والی جیا للیتا بھاری اکثریت سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئی تھیں۔ یہ انتہائی طاقت ور علاقائی سیاستدان سیاست میں آنے سے قبل فلموں کی معروف اداکارہ تھیں۔
رجنی کانت نے، جنہیں اُن کے مداح سپر سٹار کہتے ہیں، ایک ایسے وقت میں سیاست میں آنے کا اعلان کیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس جنوبی ریاست میں اپنا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تامل ناڈو میں عشروں سے دو بھارتی سیاسی جماعتیں حکومت کرتی آئی ہیں۔ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی سن 2016 میں ہوئے ریاستی انتخابات میں ایک نشست بھی حاصل نہیں کر پائی۔ آئندہ الیکشن سن 2021 میں ہونا متوقع ہیں۔
فلم سٹار رجنی کانت نے آج بروز اتوار اپنی سیاسی پارٹی کے جلد قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا،’’ میں مذہب اور ذات پات سے بالا تر ہو کر سیاست کروں گا۔ اگر مجھے اقتدار ملا اور میں مناسب طور سے عوام کی خدمت نہ کر سکا تو تین سال کے اندر استعفیٰ دے دوں گا۔‘‘
تامل فلموں میں رجنی کانت نے زیادہ تر ایک ایسے ہیرو کا کردار نبھایا ہے جو عوام کا نجات دہندہ ہوتا ہے تاہم اُن کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ سیاست فلموں سے مختلف ہے۔
رجنی کانت ایکشن ہیرو کے طور پر غیر معمولی مقبولیت رکھتے ہیں۔ اپنی عملی زندگی کے آغاز پر وہ ایک بس کنڈکٹر ہوا کرتے تھے۔ ستر کی دہائی میں انہوں نے یہ پیشہ چھوڑ کر جنوبی بھارت کے شہر مدراس میں ڈرامے کے شعبے میں تعلیم و تربیت حاصل کرنا شروع کی۔
ایک سو پچھتر سے زائد فلموں میں کام کر کے فلمی دنیا میں اپنی منفرد پہچان بنانے والے رجنی کانت اب تک بھارتی حکومت کی جانب سے پدما بھوشن ایوارڈ سمیت لاتعداد ایوارڈز وصول کر چکے ہیں۔