تارکین وطن کی یورپ میں داخل ہونے کی کوششیں، سرحدوں پر جھڑپیں
29 فروری 2020خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یونان سے متصل ترک صوبے ادرنہ میں پولیس اور تارکین وطن کے درمیان جھڑپوں کے حوالے سے آج ہفتہ انتیس فروری کو بتایا کہ پولیس تارکین وطن کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں تارکین وطن نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔
ترک یونان سرحد پر یہ تازہ جھڑپیں انقرہ حکومت کے حالیہ اعلان کے بعد سامنے آرہی ہیں، جس میں یورپ کا رخ کرنے والے ہزاروں تارکین وطن کو ترکی میں مزید نہیں روکنے کا کہا گیا تھا۔خیال رہے شمالی شام میں شامی فوج کے ہاتھوں تینتیس ترک فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس تناظر میں شام، روس اور ترکی کے مابين شديد کشيدگی پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب ایتھنز حکومت نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ اپنی سرحد پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور یورپی یونین کی حدود میں تارکین وطن کے غیر قانونی داخلے کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ یونانی وزیر دفاع نیکوس پاناگیوٹوپولوس نے آج یونانی نیوز چینل سکائی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز گزشتہ شب سے تارکین وطن کو غیرقانونی طور پر سرحد عبور کرنے سے روک رہی ہیں۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس حوالے سے متعدد تارکین وطن کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یونانی حکام نے ترکی کے ساحلوں کے قریب اپنے جزیروں پر بھی سخت سکیورٹی انتظامات کر رکھے ہیں۔
دریں اثناء ترکی کی جانب سے بڑی تعداد میں تارکین وطن کو سرحدی علاقوں میں جانے کی اجازت دینے کےبعد خدشہ ہے کہ سن 2015 کی طرح ایک مرتبہ پھر پناہ گزین ایک بڑی تعداد میں یورپی ممالک کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔ ان تاریکن وطن میں پاکستان، افغانستان، ایران اور مشرق وسطیٰ کے ممالک شامل ہیں۔
ع آ / ع س (اے ایف پی، ڈی پی اے)