ترکی کے کردوں سے تعلقات
31 اکتوبر 2009عراق کے خودمختار شمالی کرد علاقے کے صدر مسعود بارزانی نےکرد تنازعہ ختم کرنے کے سلسلے میں ترک حکومت کے نئے موقف کو سراہتے ہوئے لسانی خونریزی ختم کرنے پر زوردیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترک وزیر خارجہ داؤد اوگلو عراق کے دورے پر ہیں۔ ترک وزیرکرد علاقے کا بھی دورہ کریں گے جو اعلیٰ سطح کے ترک عہدیدارکا اس خطے کا پہلا دورہ ہوگا۔ انقرہ حکومت، عراقی کرد علاقے کی حکومت پر جنوبی ترکی میں کرد علیحدگی پسندوں کو پناہ گاہ فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کرتی آئی ہے۔
ترک فوج گزشتہ پچیس سالوں سے ملک کے جنوب میں کردستان ورکرز پارٹی’پی کے کے‘ کے علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اس آپریشن میں اب تک چالیس ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اسی علاقے سے متصل سرحد کے دوسری جانب عراق میں کرد علاقے کو سال انیس سو اکانوے سے خودمختاری حاصل ہے۔
ترکی کی جانب سے حالیہ دنوں میں مصالحانہ روئیے دیکھنے میں آرہا ہے۔
مبصرین کے بقول اس کی وجہ ترکی کا یورپی یونین میں شمولیت کا خواب ہے جس کے لئے اسے انسانی حقوق کے معیارکو بلند کرنےکا کہا جارہا ہے۔
امکان ظاہرکیا جارہا ہے کہ جلد جنوب مشرقی ترکی میں بسنے والی کرد اقلیتی آبادی کو ایک حد تک آزادی دے دی جائے گی۔ اس سلسلے میں کرد زبان و ثقافت پر عائد مختلف پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
دورے میں ترک وزیر تجارت سمیت تقریباً ستر افراد پر مشتمل ایک وفد بھی ان کے ہمراہ ہے۔ داؤد اگلو اس دورے کے دوران عراقی اور کرد حکام کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش کریں گے۔
عراقی کرد خطے سے ترکی کے تعلقات میں بہتری کا آغاز موجودہ وزیراعظم رجب طیب ایردوان کے دور حکومت میں ہوا ، جس کی مثال توانائی کے شعبے اور دوطرفہ تجارت میں تعاون ہے۔ ترکی اپنے آپ کو مشرقی وسطیٰ کو یورپ سے ملانے والی راہ داری کے طور پر پیش کرتا ہے۔
انیس سو اکانوے میں خودمختاری حاصل کرنے والے عراق کے شمالی کرد علاقے کو تسلیم کرنا، ترکی کے سیاست دانوں کے لئے باعث ذلت سمجھا جاتا رہا ہے۔
ترکی کی جانب سے عراقی کرد علاقے کے صدر بارزانی پرکردستان ورکرز پارٹی کے علیحدگی پسندوں کو ترکی میں داخل ہونے سے نہ روک پانے پر ناکامی کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں۔
عراق میں تیل کی دولت سے مالامال علاقے کرکوک پر کرد اور عرب آبادی میں ملکیت کا تنازعہ چل رہا ہے، ترکی کو ڈر ہے کہ اگر فیصلہ کرد آبادی کے حق میں جاتا ہے تو وہ مالی اعتبار سے خاصے خود مختار ہوجائیں گے۔ عراق حکومت کے ساتھ ترکی کی جانب سے تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد مزید تیزی دکھائی دے رہی ہے۔
حالیہ دورے کے دوران ترک وزیر خارجہ موصل اور بصرہ کے علاوہ عراقی کرد علاقے میں بھی ترک قونصل خانے کا افتتاح کریں گے۔
رپورٹ :شادی خان
ادارت :عدنان اسحٰق