’جرمنی میں دہشت گردانہ حملوں کی رپورٹ صرف قیاس آرائی‘
21 نومبر 2010جرمن پولیس کی طرف سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے، جب جرمنی کے ایک معتبر ہفت روزہ جریدے ڈیئر شپیگل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مسلم انتہا پسند جرمن پارلیمان کی رائشس ٹاگ نامی عمارت پر دہشت گردانہ حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس جریدے میں کہا گیا تھا کہ جرمنی میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ اس لئے کیا گیا ہےکیونکہ وفاقی پولیس کے پاس ایسی اطلاعات ہیں، جن کے مطابق مسلم عسکریت پسند جرمن پارلیمان پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر دہشت گرد پارلیمان پر حملے کے دوران متعدد اراکین کو یرغمال بنا کر ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔
وفاقی جرمن محکمہ برائے انسداد جرائم کے سربراہ یورگ سیرکے کا کہنا تھا : ’’ہمارے پاس مشتبہ افراد کے بارے میں پوری معلومات ہے تاہم ایسی ٹھوس معلومات نہیں، جن سے یہ ظاہر ہو کہ دہشت گرد کسی خاص وقت یا کسی خاص جگہ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔‘‘
ڈیئر شپیگل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ایک اعلیٰ جرمن سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے لکھا گیا تھا کہ بیرون ملک رہنے والے ایک عسکریت پسند سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق دہشت گرد دارالحکومت برلن کے مرکز میں 19ویں صدی کی عمارت پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق دہشت گرد ممکنہ طور پر اس عمارت پر حملے کے دوران اندھا دھند فائرنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پولیس اس معلومات کو ٹھوس سمجھتی ہے۔
جرمن جریدے کے مطابق اس معلومات کے تناظر ہی میں گزشتہ بدھ سے حکام نے جرمنی بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے اور خصوصی طور پر عوامی مقامات، ہوائی اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل جرمن وزیرداخلہ Thomas de Maiziere نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دہشت گرد ممکنہ طور پر سن 2008ء میں بھارتی شہر ممبئی پر ہونے والے حملوں کی طرز پر جرمنی میں بھی دہشت گردی کرنا چاہتے ہیں اور اسی تشویش کو سامنے رکھتے ہوئے سکیورٹی کو ہائی الرٹ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔
رپورٹ : امتیاز احمد
ادارت : عاطف توقیر