روہنگیا افراد کی ملک بدری کی وجہ دہشتگردی کا خطرہ ہے، بھارت
18 ستمبر 2017بھارتی حکومت ہجرت کر کے اپنی سرزمین پر آنے والے ہزاروں روہنگیا مہاجرین کی ملک بدری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ نئی دہلی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف دو روہنگیا مہاجرین نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔
روہنگیا بحران کے خاتمے کا آخری موقع، گوٹیرش کی سوچی کو تنبیہ
روہنگیا مسلمانوں کا میانمار سے کوئی تعلق نہیں، جنرل لینگ
ملکی سپریم کورٹ میں اپنے فیصلے کے دفاع میں جمع کرائے گئے ایک تحریری جواب میں نئی دہلی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ بھارت میں موجود کئی روہنگیا مہاجرین مبینہ طور پر ملک میں دہشت گردی کے منصوبوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔
پیر کو حکومت نے اپنے تحریری بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ کئی روہنگیا افراد کے تعلقات مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور داعش کے ساتھ بھی ہیں اور انہی ’دہشت گرد‘ گروہوں کے ساتھ مل کر کئی روہنگیا مہاجرین بھارت میں دہشت گردی کے کئی منصوبوں میں ملوث رہے ہیں۔
روہنگیا مہاجرین کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپیل میں کہا گیا تھا کہ روہنگیا اقلیت کو ملک بدر کر کے واپس میانمار اس لیے نہیں بھیجا جا سکتا کیوں یہ مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق مہاجرین کو کسی ملک سے ملک بدر کر کے واپس ان کے آبائی وطن ایسی صورت میں نہیں بھیجا جا سکتا جب وہاں ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوں۔ ایسی ملک بدری انسانی حقوق کے منافی تصور کی جاتی ہے۔
تاہم بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس پر ان بین الاقوامی قوانین کا نفاذ نہیں ہوتا کیوں کہ نئی دہلی نے سن 1951 میں طے پانے والے مہاجرین سے متعلق عالمی کنونشن پر دستخط نہیں کر رکھے ہیں۔
میانمار کی روہنگیا اقلیت کئی برسوں سے ہجرت کر کے بھارت کا رخ کرتی رہی ہے۔ بھارت میں اقوام متحدہ کی جانب سے قائم کردہ مہاجر کیمپوں میں سولہ ہزار سے زائد روہنگیا رہ رہے ہیں۔
راکھین میں صورتحال کو قابو میں لایا جائے، عالمی سلامتی کونسل