شعیب اختر قوانین کا احترام کرتے ہیں؟؟؟
5 ستمبر 2008کئی اوقات قواعد و ضوابط کو توڑنے والے پاکستانی سٹار کرکٹر شعیب اختر نے سرے کاونٹی کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد لندن پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے پاس ورک پرمٹ نہیں ہے اس لئے انہیں لندن سے واپس پاکستان روانہ کر دیا تاکہ وہ لندن کی کسی کاونٹی کی طرف سے کھیلنے کے لئے باقاعدہ ویزا حاصل کر سکیں۔
شعیب اختر نے کہا کہ ان کے پاس لندن کا دس سالہ ویزا ہے تاہم انہیں خبر نہیں تھی کہ وہ اس ویزے کے ساتھ وہاں کرکٹ نہیں کھیل سکتے اور انہیں خصوصی ویزا درکار ہو گا۔ اس معصوم بھرے انداز پر کیا کہا جائے کیونکہ شعیب اختر اس سے پہلے بھی سمر سٹ، ڈرہم اور ووسٹر شائر کے لئے انگلس کاونٹی کھیل چکے ہیں ۔ تاہم شعیب اختر نےاس موقع پر صرفیہی کہا کہ وہ قوانین پر عمل کرنا ضروری ہے۔
شعیب اختر نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی انہیں ورک پرمٹ مل جائے گا اور اس ہفتے کے اختتام پر وہ لندن روانہ ہو جائیں گے۔
شعیب اختر نے اس سال پاکستان کے لئے کوئی خاص کرکٹ نہیں کھیلی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ لندن میں کرکٹ کھیل کر وہ دوبارہ اپنی بھر پور فارم میں آنے کی کوشش کریں گے۔