قزاقوں کی جماعت تیزی سے غیر مقول ہو رہی ہے
30 اکتوبر 2012اس سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو آئندہ برس یعنی 2013 ء کے پارلیمانی انتخابات میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پائریٹس یا قزاق ابلاغ کے جدید ذرائع خاص طور پر انٹرنیٹ کے زیادہ آزادانہ استعمال اور منشیات کے استعمال پر پابندی ختم کرنے جیسے نعرے لے کر آئے تھے اور انہیں بے حد مقبولیت بھی حاصل ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ تاہم جہاں اپریل میں رائے عامہ کے جائزوں میں تیرہ فیصد افراد نے اس جماعت کے بارے میں پسندیدگی ظاہر کی تھی، وہاں اب اس جماعت کی حمایت صرف چار فیصد رہ گئی ہے۔
جرمنی کی فری ڈیمو کریٹک پارٹی ایف ڈی پی، لیفٹ پارٹی اور ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھنے والی قزاقوں کی پارٹی کچھ عرصہ پہلے تک ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آتی نظر آ رہی تھی۔ گزستہ اپریل میں ہونے والی پولنگ میں اس جماعت نے 13 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اب یہ شرح گر کر چار تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ وفاقی جرمن پارلیمان میں نشستیں حاصل کرنے کے لیے کسی بھی پارٹی کو کم از کم پانچ فیصد ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
ویسے تو ہر طرح کے نظریات کے حامل ووٹر اس جماعت کی طرف کھنچے چلے گئے تھے تاہم اُن میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے زیادہ نمایاں تھے۔ اب اس جماعت کے کمزور ہونے کا مطلب یہ ہو گا کہ اس کے سابقہ ووٹر آئندہ انتخابات میں ایس پی ڈی یا سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور گرین پارٹی کو ووٹ دیں گے، جو مل کر ایک وسیع مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جائیں گے۔ یہ صورت حال کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ انگیلا میرکل کی موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔
الیکٹورل ریسرچ گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر ماتھیاس یونگ کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے عوام میں ایسی توقعات جگا دی تھیں، جن کا پورا ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔ گویا قزاقوں کی انتخابی مہم میں استعمال کیے جانے والے نعرے پُرکشش تو تھے تاہم غیر حقیقی تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کی ایک بڑی وجہ ان کا عوامی سطح پر آپس میں جھگڑنا بھی ہے‘۔
قزاق مفت انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ، ڈیٹا کی حفاظت، فری پبلک ٹرانسپورٹ اور منشیات کے استعمال کو قانونی قرار دینے جیسے موضوعات کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا کر سیاسی منظر نامے پر خود کو منوانے کی کوشش کر رہے تھے۔
حکام کے خلاف قزاقوں کا نقطہ نظر بائیں بازو کے نظریات کے حامل ووٹروں کے لیے تو دلچسپ اور خوش آئند تھا تاہم ان کی مقبولیت میں کمی کے بعد حالات سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ایس پی ڈی اور گرین پارٹی کے حق میں زیادہ سازگار ہو گئے ہیں۔ اب لیفٹ کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اور ماضی میں قزاقوں کے حامی تمام ووٹرز ان دو پارٹیوں کی طرف ہی جائیں گے۔ ان دونوں جماعتوں کو اپنے کھوئے ہوئے ووٹس کی بازیابی کا موقع بھی میسر آ گیا ہے۔ اب یہ جماعتیں بالواسطہ طور پر جرمنی کی آئندہ مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے ہونے والی ممکنہ سیاسی ضرب تقسیم سے بھی مستفید ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
km/aa(reuters)