’مجھے آمر کہو گے تو میں نازی کہوں گا‘، ایردوآن
24 مارچ 2017ترک وزراء کو یورپی ممالک میں ترک ووٹرز کے جلسوں سے خطاب کرنے پر پابندی کے بعد سے جرمنی اور یورپ کے مابین تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر یورپی رہنما انہیں ’آمر‘ کہیں گے، تو وہ بھی یورپی رہنماؤں کو ’نازی‘ ہونے کا طعنہ دیتے رہیں گے۔ ترک صدر نے ترکی زبان کے چینل سی این این سے گفتگو میں کہا، ’’آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ ایردوآن کو آمر کہتے رہیں لیکن ایردوآن کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ آپ کو فاشسٹ یا نازی کہے۔‘‘ ایردوآن نے اس تناظر میں اصرار کیا کہ وہ بھی جوابی طور پر یورپی رہنماؤں کے لیے ایسی اصطلاحات کا استعمال کرتے رہیں گے۔
ترکی میں ہونے والے ایک ریفرنڈم کی خاطر ترک وزراء کو یورپی ممالک میں جلسوں سے خطاب کرنے سے روکنے پر ترکی اور یورپی ممالک میں تناؤ موجود ہے۔ سولہ اپریل کو منعقد ہونے والے اس ریفرنڈم کے ذریعے ترک صدر اپنے اختیارت میں مزید وسعت کے خواہاں ہیں۔ انقرہ حکومت نے یورپی ممالک میں ایسے جلسوں میں ترک وزراء کے خطاب پر عائد پابندی کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ ان ممالک میں جرمنی، ہالینڈ اور آسٹریا شامل ہیں۔
ایردوآن نے ابھی حال ہی میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’نازی اقدامات‘ کر رہی ہیں۔ برلن حکومت نے ایردوآن کے اس بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ترکی کے ساتھ زیادہ کشیدگی نہیں چاہتی۔ تاہم ایردوآن نے اپنے تازہ بیان میں دہرایا ہے کہ وہ یورپی رہنماؤں کے بارے میں ایسے بیانات دینے سے گریز نہیں کریں گے۔ جرمنی کے نئے صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے بھی کہا ہے کہ ترک صدر کو ایسے بیانات نہیں دینا چاہییں اور ایسے ممالک سے تعلقات منقطع نہیں کرنا چاہییں، جو ترکی کے ساتھ پارٹنرشپ چاہتے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مزید کہا ہے کہ سولہ اپریل کے ریفرنڈم کے بعد ترکی یورپی یونین کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات پر نظر ثانی کرے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانی والی مہاجرین کی ڈیل اگرچہ ابھی تک مکمل فعال ہے لیکن انقرہ حکومت اس ڈیل پر نظر ثانی کا عندیہ دے چکی ہے۔
ترکی کے اس ریفرنڈم میں ترک ووٹروں سے ملک میں صدارتی جمہوری نظام رائج کرنے سے متعلق رائے سوال کیا جائے گا۔ اگر یہ ریفرنڈم کامیاب رہا تو ترکی موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام چھوڑ کر صدارتی جمہوری نظام اپنا لے گا اور یوں موجودہ صدر ایردوآن کے اختیارات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ ترک صدر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اپریل میں آئینی ریفرنڈم کے بعد ان کی کوشش ہو گی کہ ترک پارلیمان ملک میں شدید نوعیت کے جرائم کے مرتکب مجرموں کے لیے سزائے موت کی بحالی کے قانون کی جلد از جلد منظوری دے دے۔