میانمار، روئٹرز کے صحافیوں کو جیل کی سزا سنا دی گئی
3 ستمبر 2018اس مقدمے کا پس منظر گزشتہ برس میانمار میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد راکھین ریاست سے روہنگیا مسلم اقلیت کی بے دخلی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے اٹھائیس سالہ کیاؤ سوئے اُو اور بتیس سالہ والون نے روہنگیا پر ہونے والے ظلم ستم پر رپورٹنگ کرنے میں مصروف تھے۔
جس وقت انہیں حراست میں لیا گیا، یہ دونوں ملکی فوج کے ہاتھوں دس مسلم مردوں کے قتل کے ایک واقعے کی تہہ تک پہنچنے کی کوششوں میں تھے۔ دسمبر 2017ء میں ان کی ملاقات پولیس سے ہوئی، جس میں ایک اہلکار نے کچھ دستاویزات ان کے حوالے کیں اور پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
والون نے عدالت میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ خوفزدہ نہیں ہیں، ’’میں جمہوریت اور آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہوں۔ میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا۔‘‘ ان دونوں صحافیوں کے وکیل نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا، ’’یہ آزادی صحافت، جمہوریت اور میانمار کے لیے نقصان دہ ہے۔‘‘
دونوں صحافی خود کو بے قصور قرار دیتے ہیں۔ ان دونوں کے مطابق انہیں ایک سازش کے تحت جال میں پھنسایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح میانمار میں آزادی صحافت کی صورتحال مزید ابتر ہو گی۔
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق میانمار کی حکومت راکھین ریاست میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی ہے۔ اس ریاست سے تقریباً سات لاکھ روہنگیا کو فوجی کارروائیوں کی وجہ سے ہجرت کرنا پڑی تھی۔ میانمار حکومت اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کی اس رپورٹ کو مسترد کر چکے ہیں۔