کیا عراقی وزیراعظم کا 'سیاسی جوا‘ کامیاب ہو گا؟
4 جولائی 2019خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق پر امریکا اور ایران دونوں کا اثر و رسوخ ہے۔ اس صورتحال میں کہا جا رہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کسی عسکری تصادم کی شکل اختیار کرتی ہے تو عراق میدان جنگ بھی بن سکتا ہے۔
عراق پر امریکا کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ ملک میں موجود ملیشیا تنظیموں کو ختم کرے۔ اس کے بعد ہی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے ان گروپوں کے خلاف اپنے سخت موقف کا اظہار کیا ہے۔
عبدالمہدی کی جانب سے ابھی دو دن قبل ہی اس تناظر میں ایک حکم نامہ جاری کیا گیا، جس کا مقصد تمام جنگجو تنظیموں کو ملکی فوجی کمانڈ کے ماتحت لانا ہے۔ عادل عبدالمہدی کا یہ اعلان اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ اگلے ہفتوں کے دوران واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔
عراقی جنگجو تنظیمیں پاپولر موبلائزیشن فورسز(پی ایم ایف)، طاقت ور نیم فوجی دستوں اور ان تمام سیاسی قوتوں کے جھنڈے تلے فعال ہیں، جنہوں نے امریکی حمایت یافتہ ملکی فوج کے ساتھ مل کر اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔
عادل عبدالمہدی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ''پی ایم ایف ان جماعتوں میں شامل ہے، جنہوں نے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔موصل کو آزادی دلائی اور ملک میں امن بحال کیا۔ اب انہیں قانونی طور پر منظم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ مطلب یہ کہ کوئی غیر قانونی ہتھیار نہیں۔‘‘
ایک اندازے کے مطابق ان ملیشیا گروپوں کے ارکان کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد بنتی ہے۔ ساتھ ہی پی ایم ایف کے پاس 329 رکنی پارلیمان میں 48 نشستیں بھی ہیں۔
ساتھ ہی مبصرین کے خیال میں اس کا امکان کم ہی ہے کہ وہ ایران نواز ان جنگجو تنظیموں کو ختم کر پائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس بات کا خطرہ بڑھ جائے گا کہ انہیں ایک کمزور اور بے اثر وزیر اعظم تصور کیا جائے گا۔