افغانستان: پوست کی بڑھتی کاشت کا سنگین مسئلہ
16 جنوری 2014پوست کی فصلیں طالبان کی باغیانہ سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہیں اور ایک اندازے کے مطابق باغیوں کو منشیات اور اُن سے جڑے جرائم کی وساطت سے سالانہ ایک سو تا چار سو ملین ڈالر تک کی آمدنی ہوتی ہے۔
افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اسپیشل انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے واشنگٹن میں جاری کردہ اپنی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ پوست کی اس بڑھتی کاشت سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ ملک ایک ایسی ریاست میں تبدیل ہو جائے گا، جو اپنے وسائل منشیات کی غیر قانونی تجارت سے پورے کرے گی۔
اپنی اس رپورٹ میں سوپکو نے لکھا ہے کہ پوست کی کاشت میں اضافے کے نتیجے میں اس کی غیر قانونی تجارت بھی بڑھے گی، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث جرائم پیشہ گروہ کسی روز ممکنہ طور پر پورے ملک پر بھی کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
سوپکو نے افغانستان میں سرگرم عمل افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ جب اس سال کے آخر تک نیٹو کی قیادت میں طالبان کے خلاف برسرِپیکار زیادہ تر فوجی دستے اس ملک سے چلے جائیں گے تو افغانستان میں کئی طرح کی حکومتوں کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ افعانستان ایک کامیاب جدید ملک بھی بن سکتا ہے، طالبان کی قیادت میں ایک اسلامی ریاست بھی وجود میں آ سکتی ہے لیکن یہ ایک ایسے ملک میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے، جہاں منشیات کی تجارت کے نتیجے میں طاقتور ہو جانے والے جرائم پیشہ گروہ برسرِاقتدار آ جائیں۔ سوپکو نے لکھا ہے کہ ’اس سنگین مسئلے پر قابو پانے کے لیے انسدادِ منشیات کے مؤثر پروگراموں اور افغان حکام کے سیاسی عزم کی غیر موجودگی میں تیسرا امکان حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے‘۔
سوپکو کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ آج کل افغانستان میں دو لاکھ نو ہزار ہیکٹر (پانچ لاکھ سولہ ہزار چار سو پچاس ایکڑ) رقبے پر پوست کاشت کی جا رہی ہے، جس سے دنیا بھر میں پوست کی 90 فیصد مانگ کو پورا کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ اس طرح افغان کاشتکار اتنے بڑے پیمانے پر پوست کاشت کر رہے ہیں کہ جس کی جدید تاریخ میں اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
افغانستان میں پوست کی کاشت میں ہونے والے اضافے کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب 2001ء میں امریکی قیادت میں غیر ملکی فوجی دستوں نے طالبان کو اقتدار سے ہٹایا تھا، تب محض آٹھ ہزار ہیکٹر رقبے پر پوست اگائی جا رہی تھی۔ سوپکو کے مطابق 2014ء یا اس کے بعد بھی اس صورتِ حال میں بہتری کا امکان دکھائی نہیں دے رہا۔
دنیا بھر میں منشیات پر قابو پانے سے متعلق امریکی سینیٹ کے ایک اجلاس کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی یا افغان حکام کے پاس منشیات کی تجارت پر مؤثر طور پر قابو پانے کے لیے کسی واضح حکمتِ عملی کا فقدان نظر آتا ہے۔
واضح رہے کہ 2002ء سے افغانستان میں منشیات کے انسداد کے پروگراموں پر سات ارب ڈالر جبکہ کاشتکاروں کو پوست کی بجائے دیگر فصلیں اگانے کی ترغیب دینے کے زرعی پروگراموں پر تین ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ افغان سکیورٹی فورسز کے اندر موجود عناصر دیہی علاقوں میں پوست کی کاشت کی اجازت دینے کے لیے مختلف طرح کے سمجھوتے کر رہے ہیں یا پھر پوست کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔