جرمنی شدت پسندوں کے نشانے پر
6 ستمبر 2010BKA کے سربراہ ییورگ سیئرکے کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بہت سے افراد پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر موجود دہشت گردی کے مراکز سے ہوکر جرمنی لوٹے ہیں۔
بنڈس کرائم آمٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایسے چار سو عسکریت پسند موجود ہیں، جن میں سے بعض جنگی تربیت حاصل کرچکے ہیں اور بعض افغانستان میں جنگ کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔
ییورگ سیئرکے نے واضح کیا کہ جرمنی میں 131 افراد پر خصوصی نظر رکھی گئی ہے، جو سیاسی مقاصد کے لئے مجرمانہ فعل کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول، ’ہمارے پاس 70 افراد کے متعلق ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ وہ ان کیمپوں میں نیم فوجی تربیت حاصل کرچکے ہیں جبکہ 40 افغانستان میں مختلف کارروائیوں میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔’
جرمن اخبار ٹاگیس شپیگل کو دئے گئے انٹرویو میں انہوں نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ اگر ٹیلی کام ڈیٹا کو محفوظ رکھنے سے متعلق قانون میں تبدیلی کی گئی تو ان مبینہ عسکریت پسندوں پر حکومت کی پکڑ کمزور پڑ سکتی ہے۔
رواں سال مارچ میں جرمنی کی اعلیٰ عدالت نے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ ڈیٹا کو محفوظ رکھنے سے متعلق ایک فیصلہ سنایا تھا، جس کے تحت حکومتی اداروں کا اختیار محدود کردیا گیا ہے۔ جرمن شہریوں کو شکایت تھی کہ ان کے ذاتی ڈیٹا کا محفوظ کیا جانا ان کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
ایک ہفتہ وار جرمن جریدے ڈیرشپیگل نے بھی اپنے تازہ شمارے میں لکھا تھا کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے یورپ میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے خدشات موجود ہیں۔ ڈیرشپیگل نے یہ بات ایک ایسے جرمن عسکریت پسند کے حوالے سے شائع کی تھی، جو رواں سال جولائی سے افغانستان میں امریکی افواج کے زیر تفتیش ہے۔
ابھی گزشتہ ماہ ہی جرمن حکام نے ہیمبرگ شہر کی طیبہ مسجد کو بند کردیا تھا، جہاں امریکہ پر گیارہ ستمبر 2011ء کے حملوں کے ماسٹرمائنڈ محمد عطاء کا بہت زیادہ آنا جانا رہتا تھا۔ خیال رہے کہ پاکستانی طالبان ایک حالیہ بیان میں یورپ اور امریکہ میں دہشت گردانہ کارروئیوں کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں۔
رپورٹ: شادی خان سیف
ادارت: ندیم گِل