ریفائنری سے تیل کی چوری: پورا آئل ٹینکر، کئی ملین ڈالر ضبط
9 جنوری 2018سنگاپور سے منگل نو جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق حکام نے بتایا کہ ’تیل چوروں‘ کے اس بہت بڑے گروہ کے قریب ڈیڑھ درجن ارکان کو حراست میں لینے کے علاوہ ان کی ملکیت 3.05 ملین سنگاپور ڈالر (2.3 ملین امریکی ڈالر کے برابر) نقد رقوم بھی قبضے میں لے لی گئیں۔
صرف پانچ سو روپے میں ایک ارب بھارتیوں کی تفصیلات لیک
’مغل بادشاہوں اور مہاراجاؤں کا خزانہ‘ چوری
پرانے خیراتی کپڑے چوری کرنے والا کنٹینر میں پھنس کر ہلاک
پولیس کی طرف سے پیر آٹھ جنوری کو رات گئے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں 30 اور 60 برس کے درمیان ہیں اور انہیں سنگاپور کی سٹی اسٹیٹ میں مختلف مقامات پر مارے گئے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔
ملزمان پر الزام ہے کہ وہ کئی مہینوں سے تیل کی بین الاقوامی تجارت کرنے والی بہت بڑی اینگلو ڈچ کمپنی شیل کی ایک ریفائنری سے وسیع پیمانے پر تیل چوری کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں شیل کمپنی کی طرف سے سنگاپور کی پولیس کو ایک شکایت گزشتہ برس اگست میں درج کرائی گئی تھی۔ اس شکایت کے بعد پولیس ماہرین مسلسل در پردہ تفتیش میں مصروف تھے اور یہ گرفتاریاں انہی تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئیں۔ پولیس نے جو آئل ٹینکر اپنے قبضے میں لیا، اس پر 12 ہزار ٹن تیل لادا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مشتبہ ملزمان کے تمام بینک اکاؤنٹ بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔
اس بارے میں شیل کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ گرفتار شدگان میں سے کچھ متعلقہ ریفائنری میں کام کرنے والے اس کمپنی کے اپنے ملازمیں ہیں، جو چوروں کے ساتھ ملی بھگت سے اس جرم کا ارتکاب کر رہے تھے۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ان ملزمان نے مبینہ طور پر یہ تیل مغربی سنگاپور میں پُولاؤ بُوکوم کے صنعتی علاقے سے شیل کی ایک ریفائنری سے چوری کیا تھا۔
ایک درجن سے زائد پولیس اہلکار چوری کے جرم میں گرفتار
100 کلوگرام وزنی سونے کے سکے کی تلاش میں چھاپے
وزیر خزانہ پر ٹیکس چوری کے الزام کے بعد پوری حکومت مستعفی
یہ جگہ دنیا بھر میں شیل کے صاف تیل کی پیداوار کے اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس برطانوی ڈچ کمپنی نے اس کے علاوہ چوری کیے گئے تیل سے متعلق مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔
سنگاپور کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ دنیا بھر میں تیل کی تجارت کے اہم ترین مراکز میں سے ایک ہے۔ مشرق وسطیٰ سے بھیجا گیا زیادہ تر برآمدی تیل سنگاپور سے ہو کر ہی مشرقی ایشیائی ممالک تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے اس شہری ریاست میں دنیا کی بہت سی بڑی بڑی تیل کمپنیوں نے اپنی ریفائنریاں قائم کر رکھی ہیں۔