سموسہ کھانا عیاشی ہے: لگژری ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ
14 جنوری 2016نئی دہلی سے جمعرات چودہ جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق بہار کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسی ہفتے چند مصنوعات پر نئے ٹیکس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان نئے ٹیکسوں کا مقصد ریاستی خزانے کو ہونے والے اس نقصان کے تدارک کی کوشش ہے، جو بہار میں الکوحل کی فروخت پر پابندی کی وجہ سے صوبے کو ہو گا۔ بہار میں شراب کی فروخت پر پابندی کا قانون اس سال اپریل سے نافذالعمل ہو جائے گا۔
اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ریاستی حکومت نے جن اشیائے تعیش، عام مصنوعات اور اشیائے خوراک کو ’لگژری مصنوعات‘ کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر 13.5 فیصد کی شرح سے لگژری ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے، ان میں کاسمیٹکس، پرفیومز اور چند مٹھائیاں تک بھی شامل ہیں۔
بات اگر صرف میک اپ کے سامان اور پرفیومز تک ہی محدود رہتی تو شاید کوئی احتجاج نہ کیا جاتا۔ لیکن اب اس موضوع پر بھارت میں سوشل میڈیا پر اس لیے بھرپور عوامی تنقید شروع ہو گئی ہے کہ ’پُرتعیش مصنوعات‘ میں عوام کا پسندیدہ سموسمہ بھی شامل کر دیا گیا ہے۔
اس بارے میں احتجاج کرتے ہوئے ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا، ’’شرمناک ٹیکس کی تنبیہ: سموسہ سیاست کے لیے تیار رہیے۔‘‘ اسی طرح ایک بھارتی مسلمان صارف عظیم شیخ نے سوشل میڈیا پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے لکھا، ’’سنئیے! کم از کم بیچارے سموسے کو تو چھوڑ دیجیے۔‘‘ یہ عوامی ناپسندیدگی ٹوئٹر پر اتنا زور پکڑ گئی کہ #samosa سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ٹرینڈنگ والا ہیش ٹیگ بن گیا۔
اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بہار میں، جو بھارت کے مشرق میں واقع ہے اور ملک کی غریب ترین یونین ریاستوں میں شمار ہوتا ہے، اپوزیشن سیاستدانوں نے حکومتی منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے، ’’یہ ٹیکس عام لوگوں کو بری طرح متاثر کرے گا۔‘‘
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی BJP کے بہار میں ترجمان دیویش کمار نے کہا ہے، ’’یہ (سموسہ ٹیکس) ایک ایسا واہیات اور عوام دشمن منصوبہ ہے، جو عوام کو بری طرح متاثر کرے گا۔‘‘
دیویش کمار نے مزید کہا، ’’سموسوں اور کچوریوں جیسے عوامی اسنیکس پر ٹیکس لگانے کی سوچ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ریاستی خزانے کی صورت حال انتہائی بری ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں کے پاس اب کوئی ڈھنگ کا نیا خیال تک نہیں بچا۔‘‘