شام میں قیام امن کی کوشش، روسی اور ترک صدور کی ملاقات
29 ستمبر 2017اس موقع پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ انقرہ میں ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک اس بات کے حامی ہیں کے شامی شہر ادلب سے دہشتگردوں کی سر گرمی ختم ہونی چاہیے جہاں جہادی قابض ہے۔ پوٹن نے اسی پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ماسکو اور انقرہ حکومتیں شام میں جاری خانہ جنگی کی صورتحال کے خاتمے کے لیے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں امن مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے اور زوردیا ہے کہ شام میں جاری کشیدگی کو کم کیا جائے خاص طور پر ادلب پر فوکس کرنا ضروری ہے۔
شامی فورسز کی دیرالزور میں کامیاب پیش قدمی
’ایران کا شام میں بڑھتا کردار مشرق وسطیٰ کے لیے خطرناک ہے‘
مغربی ممالک کی سازش ناکام بنا دی ہے، شامی صدر اسد
شام میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد شروع
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے شامی تنازعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا روس اور ترکی باہمی ہم آہنگی کو مضبوط کریں گے اور ان کےمطابق شام میں جاری چھ سالہ خانہ جنگی کے تنازعے کے خاتمے کے لئے اب صورت حال واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کے خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مناسب شرائط کو سامنے لانا ضروری ہے اور انہی سے دہشت گردوں کو حتمی شکست دینے سے خانہ جنگی کا مکمل خاتمہ ممکن ہو گا۔ پوٹن کے مطابق شام میں جنگی حالات کے بہتر ہونے کی صورت میں شامی شہری پرامن زندگی گزار سکیں گے اور اپنے اپنے گھروں کی جانب واپس لوٹ سکیں ۔ پریس کانفرنس میں روسی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام میں تمام دہشت گردوں کا صفایا اور شامیوں کے لیے پرامن زندگی کا نیا آغاز کوئی آسان کام نہیں ہے۔
اسی موقع پر ترک صدر نے کہا کہ روس اور ترکی عراق کے علاوہ شام کی جغرافیائی سالمیت کے بھی حامی ہیں۔ دونوں ممالک شام کے تنازعے اور امن کے قیام کے لیے ایک 'مشترکہ عزم' کے ساتھ کام کرینگے۔
واضح رہے کچھ عرصہ قبل تک ترکی اور روس شامی تنازعے پر ایک دوسرے کے مخالف حریف تھے۔ روس صدر بشارالاسد کا حلیف ہے جب کہ ترکی باغیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے تھا۔