نئے جرمن وزیر خارجہ گابریئل: ’سفارتکاری کم، واضح موقف زیادہ‘
27 جنوری 2017برلن میں اپنی حلف برداری کے بعد غیر ملکی سفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے زیگمار گابریئل نے کہا کہ جرمن وزیر خارجہ کی ذمے داریاں فرانک والٹر شٹائن مائر سے ان کو منتقل تو ہو گئی ہیں لیکن برلن حکومت کی خارجہ پالیسی میں آئندہ بھی یورپ، یورپی یونین، بحر اوقیانوس کے پار امریکا کے ساتھ پارٹنرشپ اور خارجہ تعلقات کی کثیرالجہتی نوعیت جیسے امور ہی کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔
زیگمار گابریئل نے برلن متعینہ غیر ملکی سفارتی مندوبین کو بتایا، ’’عوامیت پسند تحریکیں لوگوں کو قوم پسندانہ ترجیحات کے نئے نعرے دے کر عوامی خدشات کو اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں لیکن کسی بھی معاشرے کا اس سمت میں سفر بہت بڑی غلطی ہو گا۔‘‘
اس موقع پر نئے جرمن وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد جو سیاسی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جرمنی ان پر اپنے ردعمل میں ’خود اعتمادی‘ سے کام لے گا۔ گابریئل نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ہم منصب کے طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے نامزد وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے ساتھ جلد از جلد ملاقات کے انتظار میں ہیں۔
زیگمار گابریئل کے جرمن وزیر خارجہ بننے کے بعد جرمن خارجہ سیاست میں کس طرح کی تبدیلی ممکن ہے؟ اس موضوع پر ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار ژینس تُھوراؤ لکھتے ہیں کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جرمن دفتر خارجہ کا طرز گفتگو تبدیل ہو جائے گا۔
زیگمار گابریئل جرمنی کے وزیر اقتصادیات کی حیثیت سے نائب چانسلر کے طور پر اور اس سے قبل ماضی میں وفاقی وزیر ماحولیات کے طور پر بھی دنیا کے بیسیوں ملکوں کے سفر کر چکے ہیں اور بین الاقوامی سیاست میں کوئی نووارد نہیں ہیں۔
جرمنی کی موجودہ وفاقی مخلوط حکومت میں چانسلر میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی جونیئر اتحادی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ہے اور فرانک والٹر شٹائن مائر کی طرح زیگمار گابریئل کا تعلق بھی اسی جماعت ایس پی ڈی سے ہے۔
ژینس تُھوراؤ لکھتے ہیں کہ زیگمار گابریئل کے بارے میں ایک بات واضح ہے کہ وہ جس طرح کھل کر بات کرنے کے عادی ہیں، اس کے مطابق بطور وزیر خارجہ ان کی سیاست میں سفارتکاری کم ہو گی اور مختلف متنازعہ امور پر اختیار کیا جانے والا واضح اور ٹھوس موقف زیادہ۔
وزیر خارجہ کے طور پر گابریئل یہ بھی جانتے ہیں کہ دیرینہ مسائل صرف مختصر مکالمت کے ساتھ ہی حل نہیں ہوتے لیکن یہ بات بھی یقینی ہے کہ وہ خارجہ سیاست میں مختلف بحرانوں اور تنازعات پر بلاتامل بات کرتے ہوئے بھرپور بحثوں کی وجہ بھی بنیں گے۔
اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ امریکا میں جب بیس جنوری کے روز نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری ہوئی تھی اور ٹرمپ نے اپنا پہلا صدارتی خطاب کیا تھا، تو اس پر زیگمار گابریئل کا ردعمل بہت واضح تھا۔ واشنگٹن میں ٹرمپ کی تقریر کے بعد گابریئل نے ایک جرمن ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا، ’’لہجہ بہت قوم پسندانہ تھا۔ میرے خیال میں ٹرمپ نے جو کچھ کہا ہے، اپنے بیان سے ان کی مراد بھی وہی ہے۔ میری رائے میں ہمیں بھی تیار رہنا ہو گا۔‘‘
ڈی ڈبلیو کے ژینس تُھوراؤ کے مطابق گابریئل شٹائن مائر کی طرح کے کوئی سفارتکار ثابت نہیں ہوں گے۔ گابریئل کو بین الاقوامی امور کا تجربہ بھی ہے۔ بہت اچھی انگریزی بولنے اور بیرونی دنیا میں گہرے رابطوں والے گابریئل اس طرح کے محتاط اور سفارتی موقف کو ترجیح دینے والے وزیر خارجہ تو بالکل نہیں ہوں گے، جیسے ان کے پیش رو شٹائن مائر تھے۔