وینس فلمی میلہ اختتام پذیر، میکسیکن ہدایتکار کی فلم بہترین
10 ستمبر 2017میکسیکو سے تعلق رکھنے والے ہدایت کار گلیرمو ڈیل ٹورو کی فلم ’دی شیپ آف واٹر‘ کو وینس فلمی میلے کا سب سے اعلیٰ انعام ’گولڈن لائن‘ یا ’سنہرا شیر‘ دیا گیا۔ اس فلم کو جورج کلونی اور الیگزینڈر پائن کی فلموں کے سخت چیلنج کا سامنا تھا۔ وینس فلم فیسٹیول تیس اگست کی شام میں شروع ہوا تھا۔
وینس میلہ: سویڈش فلم طلائی شیر کی حقدار
وینس فلم فیسٹول کا افتتاح، 52 فلموں کے مابین مقابلہ
وینس فلمی میلے پر خواتین ہدایتکاروں کا راج
وینس فلم فیسٹول کا آغاز نتالی پورٹمین کی فلم سے
گلیرمو ڈیل ٹورو نے گولڈن لائن کا انعام وصول کرنے کے بعد اِسے اپنے ملک کے نوجوان فلم میکرز کو منسوب کیا۔ انہوں نے پرمسرت انداز میں کہا کہ یہ ایوارڈ لاطینی امریکا کے نوجوان فلم سازوں اور ہدایتکاروں کے لیے بھی ہے تا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہوئے شاندار تخلیقات کو پیش کرنے میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ میکسیکن ہدایتکار نے ایوارڈ جیتنے کو ایک خواب ناک اور طلسماتی لمحہ قرار دیا۔
اس میلے میں دوسرا مقام اسرائیل کے ہدایتکار سیموئل مواذ کی ایک فیملی ٹریجڈی پر بنائی گئی فلم ’فوکس ٹراٹ‘ کو دیا گیا۔ تیسرا انعام فرانسیسی ہدایتکار زاوئیر لیگراں کی طلاق پر منتج ہونے والی ایک محبت کی کہانی کو دیا گیا۔ فلسطینی ہدایتکار کمال الباشا کی فلم ’دی انسَلٹ‘ میں شاندار پرفارمنس دینے پر اداکارہ شارلٹ ریمپلنگ کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔
ترتیب کے اعتبار سے چوہترواں فلمی میلہ تھا اور اس میلے کے اعلیٰ ترین انعام گولڈن لائن کے حصول کے لیے منتخب فلموں کو دیکھنے والی جیوری کی سربراہی امریکی اداکارہ اینٹ کیرول بینگ کو تفویض کی گئی تھی۔
گزشتہ دس ایام کے دوران وینس فلمی میلے میں عالمی فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والے کئی اہم نام خاص طور پر اس فیسٹیول میں شریک ہوئے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وینس فلم فیسٹیول کا معیار بہت بلند ہو چکا ہے اور اب اس میلے کے لیے منتخب کی جانے والی فلموں کا معیار فرانس کے ’کان فلم فیسٹیول‘ کے مساوی ہو گیا ہے۔
وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی جانے والی کئی فلموں کو ورلڈ فلم انڈسٹری کے سب سے معتبر ایوارڈ آسکر سے بھی نوازا گیا۔ ان میں ’لا لا لینڈ‘، ’اسپاٹ لائٹ‘، ’گریویٹی‘ وغیرہ خاص طور پر نمایاں ہیں۔ میکسیکو سے تعلق رکھنے والے دو عالمی شہرت کے ہدایتکاروں الفانسو کیوران اور الیخاندرو ایناریٹو کو بھی وینس فلم فیسٹیول سے ہی ابتدائی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔