پاکستان امن کا ساتھ دے گا
9 جنوری 2020وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشرق وسطٰی میں کشیدگی کے خاتمےکے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرے گا اور کسی تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے عمان کے وزیر برائے مذہبی امور سے ملاقات میں اس بڑھتی کشیدگی پر بات چیت کی۔
آج بدھ کی صبح عمان کے وزیر برائے مذہبی امور عبدللہ بن محمد سے ملاقات کے دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی بھی تنازعے میں فریق نہیں بنے گا۔ ان کے بقول پاکستان ہر اس کوشش کا ساتھ دے گا جو قیام امن کے لیے ہو گی،’’مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ جنگ کسی کے بھی مفاد میں بھی نہیں۔ خطے میں تنازعے سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے۔ پاکستان مزید کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے تنازعات ختم کرنے کے لیے بھی کوششیں کی ہیں۔ پاکستان امن کا ساتھ دے گا۔‘‘ ’پاکستانی سرزمین کو کسی کے بھی خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے‘
اس سے قبل آج ہی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران امریکا کشیدگے کے حوالے سے ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ یہ خطہ جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب گزشتہ رات ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ امریکا کے خلاف انتقامی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے اور انہوں نے درجنوں میزائل امریکی اڈوں پر داغے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے وقت میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے جنگ کی حشر سامانیوں اور خطروں سے آگاہ کرنے کا بیان یقیناً خاص اہمیت کا حامل ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس خطے کو جنگ کی نئی دلدل میں نہیں پھنسنا چاہیے اور پاکستان کی یہی خواہش ہے کہ اس مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔ ان کے بقول پاکستان خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے،’’ اس خطے نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور کر رہا ہے۔ برد باری سے معاملات کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ دونوں اطراف کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ معاملات میں کشیدگی آ رہی ہے ان حالات میں بڑی اسٹیٹسمین شپ کی ضرورت ہے۔ اس وقت جذباتی رد عمل نقصان دہ ہو سکتا ہے لہٰذا برد باری سے کام لینا چاہیے۔ کشیدگی میں کمی کے لیے اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘‘
ایک نجی مقامی ٹی وی سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان وہی کرے گا جو پاکستان کے مفاد اور عالمی امن کے لیے ضروری ہو گا۔ پاکستان خطے کی موجودہ صورتحال پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے۔