’کانگریس کی جیت کے امکانات بہت کم ہیں‘
8 اپریل 2014بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے لیے مرحلہ وار پولنگ کا آغاز پیر سات اپریل کو ملک کی شمال مشرقی ریاستوں آسام اور تری پورا سے ہو گیا ہے۔ یہ انتخابات نو ادوار میں آئندہ پانچ ہفتوں میں مکمل کیے جائیں گے۔ پانچ سو پینتالیس ارکان پر مشتمل لوک سبھا یا پارلیمان کے ایوانِ زیریں کے لیے آٹھ سو پندرہ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ انتخابی نتائج کا اعلان سولہ مئی کو کیا جائے گا۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ہندو قوم پرست جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کا پلڑا ان انتخابات میں بھاری ہے اور اس جماعت کے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے امیدوار گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی حکمران جماعت کو پچھاڑنے کی پوزیشن میں ہیں۔
ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھارتی تجزیہ کار ملان ویشنو نے کہا کہ کانگریس پارٹی بدعنوانی کے متعدد اسکینڈلوں کے باعث بدنامی سے دو چار ہے جب کہ مودی کا معاشی پیغام نوجوانوں کو متاثر کر رہا ہے۔
ڈی ڈبلیو: وہ کون سے سیاسی مسائل ہیں جو کہ انتخابات کے نتائج میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے؟
ملان ویشنو: ملک کی اقتصادیات سے زیادہ اہم کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔ بھارتی ووٹرز نے معاشی بدحالی، مہنگائی اور کرپشن کو اپنے اہم ترین مسائل قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے کوئی ایسا دور نہیں گزرا جب بھارت میں معاشی مسائل کو اتنی اہمیت حاصل رہی ہو۔ اس کی وجہ سست ہوتی ہوئی اقتصادیات اور حالیہ چند برسوں میں کرپشن کے کیسز ہو سکتی ہے۔
کیا آپ کانگریس کے زیر قیادت یونائٹڈ پروگریسو الائنس کے اقتدار پر براجمان رہنے کا امکان دیکھتے ہیں؟
اس کا امکان نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتا ہے۔ تقریباً تمام جائزے اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ کانگریس آزادی کے بعد کی سب سے بڑی شکست سے دوچار ہونے جا رہی ہے۔
اگر بی جے پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرتی ہے تو مودی کے وزیر اعظم بننے کا کتنا امکان ہے؟
بلا شبہ نریندر مودی اگلا وزیر اعظم بننے کے خواہش مند افراد میں سب سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ بی جے پی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کم از کم دو سو نشستیں جیت پائے گی۔ پچیس تیس نشستیں اس کی اتحادی جماعتوں کو حاصل ہو پائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی اور مودی اس حکومت کو چلائیں گے۔
بہت سے لوگ اب بھی مودی کو سن دو ہزار دو کے ہندو مسلم فسادات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے وزیر اعظم بننے کی راہ میں رکاوٹ ہو سکتا ہے؟
انتخابی مہم میں اس کا بہت مرتبہ حوالہ دیا گیا۔ تاہم معلوم یہ ہوتا ہے کہ ملک کی اکثریت گجرات کے واقعات سے آگے بڑھ چکی ہے اور معیشت اور گورننس پر ان کا دھیان زیادہ ہے۔
کیا عام آدمی پارٹی کے ان انتخابات میں ایک بڑی قؤت بن کر ابھرنے کے امکانات ہیں؟
اس راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ دہلی میں اس پارٹی کی حکومت سازی اور اور پھر دہلی سرکار کی تحلیل سے بہت سے ان لوگوں میں اس پارٹی کے متعلق ابہام پیدا ہو گیا ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اس پارٹی کی حمایت کر رہے تھے۔ پھر بھی امید کی جا سکتی ہے کہ یہ پارٹی دس سے بارہ نشستیں جیت سکتی ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔
ملان ویشنو کارنیجی اینڈاؤمینٹ فار انٹرنیشنل پیس کے جنوبی ایشیا سے متعلق پروگرام سے وابستہ ہیں۔