یورپی یونین سمٹ اور لزبن ٹریٹی
28 اکتوبر 2010جمعرات اور جمعہ کو برسلز میں منعقد ہونے والی یورپی یونین سمٹ کے دوران لزبن معاہدے میں تبدیلیوں کا موضوع بنیادی ایجنڈے کی شکل اختیار کرگیا ہے جبکہ کچھ یورپی رہنماؤں نےاس سمٹ کی ناکامی کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
جرمنی اور فرانس کا مؤقف ہے کہ رکن ریاستوں کے ملکی بجٹوں کی تیاری میں یورپی یونین کی خلاف وزری کرنے پر سخت سزائیں دینی چاہئیں ،جس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسے رکن ممالک کے لئے ای یو میں ووٹنگ کے حق کو معطل کر دیا جانا چاہئے۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورو زون کو مستحکم بنانے کے لئے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سمٹ میں لزبن ٹریٹی میں مجوزہ تبدیلیوں کو قبول کریں تاکہ مستقبل میں یورو زون کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو ۔ بدھ کو جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں سے خطاب میں میرکل نے کہا کہ ریاستی قرضے یورو زون کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔
فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے دیگر یورپی رہنماؤں کو اعتماد میں لئے بغیر ہی یہ تبدیلیاں تجویز کی ہیں، جس کے نتیجے میں یورپی رہنماؤں میں ایک برہمی کا عنصر نمایاں نظر آ رہا ہے۔ بدھ کے دن ہی یورپی یونین کی جسٹس کمیشنر Viviane Reding نے لزبن ٹریٹی میں ایسی کسی بھی ترمیم کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا تو اس کے فورا بعد ہی فرانس کے یورپی منسٹر Pierre Lellouche نے لکسمبرگ کی اس خاتون سیاستدان کے بیان کو ’ناقابل قبول‘ کہا۔
دوسری طرف یورپی یونین کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ آئندہ یورپی یونین سمٹ کے دوران ماحول کافی گرم رہے گا،’ لیکن ہم ٹاسک فورس رپورٹ کو اس کی اصل شکل میں ہی منظور کر لیں گے۔‘
یونان میں اقتصادی بحران کے بعد یورپی یونین نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی تھی ، جس کا مقصد ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دینا تھا ، جس کی مدد سے مستقبل میں ایسے کسی بحران سے بچا جا سکے۔ بعد ازاں ستمبر میں یورپی یونین کے وزرائے خزانہ ایک ایسے لائحہ عمل پر متفق ہوئے تھے، جس کے تحت رکن ریاستیں اپنے ملکی بجٹ کی تیاری کے دوران یورپی ماہرین سے مشاورت کر سکیں گی۔
تاہم جب یونین کے قوانین کی خلاف وزری کرنے والی ریاستوں کو سزا دینے کی بات ہوئی تو جرمنی اور فرانس کی طرف سے لزبن ٹریٹی میں ترامیم کے مطالبے نے رکن ریاستوں میں اختلافات پیدا کر دئے۔ لزبن ٹریٹی میں کسی بھی ترمیم کے لئے ستائیس رکن ممالک کے متفق ہونے کے علاوہ اس کے حتمی اطلاق سے قبل یورپی پالیمان سے منظوری ملنا بھی ضروری ہوتی ہے۔
رپورٹ: عاطف بلوچ
ادارت: عابد حسین