تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنما پر ناکام ڈرون حملہ، رپورٹ
17 دسمبر 2021خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عسکریت پسند گروہ تحریک طالبان پاکستان کے ذرائع نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی سرحد کے اندر واقع مولوی فقیر محمد کے حجرے یا گیسٹ ہاؤس کے صحن میں ڈرون سے ایک میزائل داغا گیا، جو کہ پھٹنے نہیں سکا۔ اس طرح مولوی فقیر محمد اور ان کے ساتھی ڈرون حملے میں بچ گئے۔
ٹی ٹی پی کے اہلکار نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا، ''تقریباﹰ ساڑھے تین بجے اچانک ایک ڈرون فضا میں دیکھا گیا۔ ہم پریشان ہوگئے اور مولوی فقیر کو ایک محفوظ مقام پر جانے کا کہا، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ دن کے وقت کہیں چھپنا ممکن نہیں ہے۔‘‘ اطلاعات کے مطابق فقیر محمد میزائل داغے جانے سے تقریباﹰ آدھا گھنٹہ قبل ہی اپنے گھر سے گیسٹ ہاؤس کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
مولوی فقیر محمد کہاں ہیں؟
طالبان رہنما کے مطابق مسلح ڈرون نے جب گیسٹ ہاؤس کے ایک کمرے پر میزائل فائر کیا تو فقیر محمد وہاں سے صرف تین میٹر کے فاصلے پر موجود تھے۔ ''خوش قسمتی سے میزائل نہیں پھٹ سکا اور وہ [فقیر محمد] اور ان کے ارد گرد موجود افراد محفوظ رہے۔‘‘ ادھر خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس حملے میں ٹی ٹی پی کے دو جنگجو زخمی ہوئے ہیں۔
فقیر محمد تحریک طالبان پاکستان کے ایک سابق رہنما ہیں۔ وہ آٹھ برس تک افغانستان کی بگرام جیل میں قید تھے۔ افغان طالبان نے رواں برس پندرہ اگست کو کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ان کو رہا کردیا تھا۔
ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی ناکام کوشش
مولوی فقیر احمد پر مبینہ ڈرون حملے کی خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عمران خان حکومت اور انتہا پسند ٹی ٹی پی کے درمیان مستقل جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے۔ عسکریت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے گزشتہ ہفتے تیس دن کی جنگ بندی میں توسیع کرنے سے انکار کردیا تھا۔
واضح رہے اسی مسلح گروپ نے پچھلے پندرہ برسوں میں پاکستان میں کئی دہشت گردانہ حملوں میں بے شمار سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس میں سن 2014 کا پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہولناک دہشت گردانہ حملہ بھی شامل ہے، جس میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں نے تقریبا ڈیڑھ سو بچے اور ٹیچرز کو ہلاک کر دیا تھا۔
ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کئی سالوں سے اسلام آباد حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مسلح جنگ لڑ رہی ہے اور وہ ملک میں سخت گیر اسلامی نظریات کا نفاذ چاہتے ہیں۔ یہ شدت پسند گروہ افغان طالبان سے علیحدہ کام کرتی ہے۔ ٹی ٹی پی کے جنگجو اور سینیئر رہنما طویل عرصے سے افغانستان کے مشرقی سرحدی علاقوں میں مبینہ پناہ لیے ہوئے ہیں۔
ع آ / ع ح (روئٹرز، اے ایف پی)